آذادی مارچ، دو روز تک اہم فیصلے آنے کا امکان

اسلام آباد:

جے یوآئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سنیچر کو تیسرے روز آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘اپوزیشن جماعتوں کے حتمی فیصلوں تک ادھر ہی بیٹھے رہنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم یہاں سے ڈی چوک بھی جا سکتے ہیں۔

اپنے خطاب میں انھوں نے مظاہرین کو کہا کہ کل اور پرسوں تک اور سخت فیصلے کر سکتے ہیں، تاکہ تحریک کا تسلسل برقرار رکھا جاسکے۔ ’آپ نے ان فیصلوں پر لبیک کہنا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ہم پرامن رہیں گے، جو فیصلہ قیادت کرے گی، آگے مراحل مل کر طے کریں گے۔

اپنے کارکنان سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ‘ہماری تاریخ جدوجہد سے بھری ہوئی ہے۔ آج جو مقاصد آپ نے تین دن میں حاصل کیے ہیں شاید کوئی جماعت سو سال میں بھی ایسا نہ کر سکے۔’ انھوں نے اپنے کارکنان سے کہا کہ جب تک تمام اپوزیشن کوئی فیصلے نہیں کرتی، آپ نے استقامت سے اِدھر بیٹھے رہنا ہے۔’

ہم پرامن طریقے سے آگے بڑھیں گے اور ناجائز حکومت کے خاتمے تک یہ جدوجہد جاری رہے گی۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آج ‘جعلی حکومت’ نے ایک کمیٹی بنائی ہے اور کہا ہے کہ مذاکرات کے لیے ہمارے دروازے کھلے ہیں۔ ہم تو اسلام آباد میں گھوم رہے ہیں۔ ہر طرف کنٹینرز لگے ہوئے ہیں، نہ بنی گالا جانے کے لیے رستہ ہے، نہ تو وزیر اعظم ہاؤس اور نہ صدارتی محل کی طرف۔ تم نے تو سارے رستے بند کیے ہیں۔

کس طرح راستے سے آپ ہمیں مذاکرات کی دعوت دے رہے ہیں؟

انھوں نے حکومت پر گالم گلوچ بریگیڈ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انھیں گالیوں کے علاوہ کچھ نہیں آتا۔

انھوں نے آزادی مارچ میں افغان طالبان کا جھنڈا لہرانے کو بھی حکومت کی شرارت قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان کو پاکستان سمیت کئی ممالک میں صدارتی پروٹوکول کے ساتھ خوش آمدید کہا گیا ہے۔ انھوں نے حکومت کی خارجہ اور معاشی پالیسیوں پر سخت تنقید کی۔

یہ عوام یہ دعوی لے کر آئی ہے کہ حکمران غیر آئینی ہے، غیر قانونی ہے، جعلی ہے، خلائی ہے، ناجائز ہے۔’ انھوں نے مطالبہ کیا کہ ‘استعفی دے دو اور لوگوں کو اپنا حق دوبارہ استعمال کرنے کی اجازت دے دو۔’

ان کا کہنا تھا کہ آج کے اجلاس میں رہبر کمیٹی نے طے کیا ہے کہ ڈی چوک تک جانا بھی ہماری تجویز ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہ یہ عوام آپ کی حکومت کے لیے کافی ہے۔ ابھی لوگ آرہے ہیں۔ آج بھی قافلے آرہے ہیں اور کل بھی آئیں گے۔ ‘ایک آواز پر پوری قوم اسلام آباد میں آئے گی۔’

ان کا کہنا تھا کہ صرف کرسی پر ٹانگ پہ ٹانگ رکھنا ہی حکومت کا نام نہیں ہوتا۔ اب پاکستان میں تمھاری رٹ ختم ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘اب ہم ملک کو چلائیں گے، ترقی دیں گے ملک کو، اس کی معیشت کو سنبھالیں گے۔’

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کبھی کہتے ہیں کہ اس اجتماع میں خواتین نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں آنے سے انھیں کسی نے نہیں روکا ہے، لیکن ماحول ایسا ہے۔ ‘ہمارے معاشرے کی کچھ اقدار اور ویلیوں ہوتی ہیں۔ ہماری خواتین گھروں میں بیٹھ کر شریک ہیں، روزے رکھ رہی ہیں اوردعائیں مانگ رہی ہیں۔’

اس وقت اسمبلیوں میں خواتین ہماری نمائندگی کررہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسمبلیوں میں اقلیتیں بھی ان کی جماعت کی نمائندگی کر چکی ہیں۔ غیر مسلم ہمارے نمائندے اور اسمبلیوں کے ممبر ہیں۔

انھوں نے سوال کیا کہ خواتین کی بات کرتے ہو تو قائد اعظم کی بہن فاطمہ جناح کو ایوب خان کے مقابلے میں کس نے شکست دلوائی تھی۔ ‘ان کو ایک فوجی مرد کے مقابلے میں کس نے ہرایا۔ انھوں نے کہا کہ ولی خان نے اس خاتون کا ساتھ دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ تاریخ کا قلم بڑا رحم ہوتا ہے، یہ سب تاریخ رقم کررہی ہے۔

انھوں نے کہا ہم ترقی پسند ہیں اور حکومت رجعت پسند ہے۔ ہم آج کے پاکستان کی بات کرتے ہیں اور یہ 1947 کی بات کرتے ہیں۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.