مولانا فضل الرحمان کا مقصد کچھ اور ہے، فواد چودھری

اسلام آباد: وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویت کرتے ہوئے کہا مدارس کے بچوں کو جہاد کے نام پر ملاؤں نے استعمال کیا اور سیاست میں مدارس کے بچوں کو قربانی کا بکرا بنایا گیا۔ فضل الرحمان بچوں کو سیاست کیلئے استعمال کرتے ہیں۔

فواد چودھری کا کہنا تھا فضل الرحمان کی تحریک کے دو بڑے مقاصد ہیں، ایک سیاسی حیثیت کی بحالی جبکہ دوسرا مدارس اصلاحات کو روکنا ہے۔ بچے شعور کے نظام میں داخل ہو گئے تو ان کی دکانیں بند ہو جائیں گی۔

خیال رہے آج پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دھرنے کا لفظ چھوڑ دیں یہ آزادی مارچ ہے۔ پورے ملک سے انسانوں کا سیلاب آ رہا ہے اور حکومت تنکوں کی طرح بہہ جائے گی جبکہ نا اہل اور ناجائز حکومت کا جانا ٹھہر گیا ہے۔

دوسری جانب مولانا فضل الرحمان نے ملک میں نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جائز حکومت تشکیل دی جائے۔ اب یہ جنگ حکومت کے خاتمے پر ہی ختم ہو گی اور ہماری جنگ کا میدان پورا ملک ہو گا تاہم گرفتاریوں سے اشتعال بڑھے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہمارا پہلا پڑاؤ ہو گا، بی اور سی پلان کی طرف بھی جائیں گے جب کہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی تبدیل کرتے رہیں گے۔

جے یو آئی کے سربراہ نے مزید کہا کہ آصف زرداری ہمارے ساتھ ہیں اور کہیں سے مایوسی نہیں۔ ہر پارٹی کی اپنی حکمت عملی اور ترجیحات ہوتی ہیں لیکن حتمی طور پر سب پارٹیوں نے ساتھ دینے کا کہا ہے۔ اسلام آباد جانا بُرا ہے تو اس کا نام ہی کیوں ایسا رکھا۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت کا مدارس والا کارڈ فیل ہو چکا ہے اور ہمارے مدارس اس کا اثر نہیں لے رہے۔ مدرسوں کا ایشو بڑھا کر حکومت بین الاقوامی سپورٹ لینا چاہتی ہے اور مدارس کے طلبہ میں انعامات تقسیم کر کے ہمیں کاؤنٹر کرنے کی کوشش کی گئی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.