کیا معاونین نے عمران خان کو بند گلی میں دھکیل دیا؟

لاہور (ویب ڈیسک) اس وقت ملکی معیشت خطرناک حد تک بے یقینی کا شکار ہے۔ وزیر اعظم کے اردگرد موجود معاونین ان کو بند گلی میں کھڑا کر چکے ہیں۔ ان کو ادراک ہونا چاہئے کہ پاکستان کے چیدہ چیدہ بزنس ٹائیکونز میں بہت پریشانی ہے۔ بے یقینی اور بے اطمینانی کی فضا ہے اور

نامور کالم نگار کنور دلشاد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں (( ان حالات میں پاکستان کے ممتاز بزنس مینوں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی ہے اوران کا کہنا ہے کہ حکومتی مشیر وںمیں اہلیت نظر نہیں آتی‘ وزیراعظم کے فیصلوں پر عملدرآمد نہیں ہوتا‘کاروباری مشکلات بڑھ رہی ہیں۔

طویل اجلاس کا نتیجہ سامنے نہیں آرہااور وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری سے بھی بزنس کمیونٹی کو شکایات ہیں۔پاکستان کی انتظامی تاریخ میں پہلی مرتبہ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ وزیراعظم کے سیکرٹری محمد اعظم خان کی شکایات آرمی چیف کو کی جا رہی ہیں۔

اس سے پیشتر گزشتہ برس جب حکومت کے سو دن پورے ہورہے تھے تو وزیراعظم نے اپنی حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے صحافیوں کو مدعو کیا تھا جبکہ مجھے سابق بیوروکریٹ اور لوکل گورنمنٹ سسٹم کے حوالے سے مدعو کیا گیا تھا۔

میری موجودگی میں چند صحافیوں نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کے خلاف یہی رائے دی تھی کہ موصوف برہمن بنے ہوئے ہیں اور ان سب کو شودر سمجھتے ہیں۔

وزیراعظم نے ان صحافیوں کی شکایات پر دھیان نہیں دیا اور آج یہی کیفیت دیکھنے میں آرہی ہے کہ آرمی چیف سے بھی بزنس کمیونٹی باقاعدہ گلے شکوے کر رہی ہے ۔اعدادوشمار کے سرکاری تناظر میں ارباب اختیار کو معاشی غور اور ترقی و خوشحالی کے دعووں کو زمینی حقائق سے جانچنا ہوگا۔

بزنس کمیونٹی کا آرمی چیف سے عشائیے پر ملاقات کرنا بھی ایک طرح سے حکومتی پالیسیوں پر عدم اعتماد کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ بزنس کمیونٹی حکمران جماعت کے دعووں پر یقین نہیں کر رہی ہے۔

تحریک انصا ف حکومت کے لیے غیر ملکی فنڈنگ کا کیس بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کی مقررکردہ سکروٹنی کمیٹی کو مبینہ طور پرتحریک انصاف کے 23اکاؤنٹس کی تفصیل مل گئی ہے ۔

الیکشن کمیشن میں تحریک انصاف کی غیر ملکی فنڈنگ کے متعلق کیس کی سماعت کے دوران بتایا گیا ہے کہ سٹیٹ بینک نے الیکشن کمیشن کو تحریک انصاف کے اکاؤنٹس کی تفصیل کے بارے میں رپورٹ پیش کر دی ہے اور مزید سماعت 10اکتوبر تک ملتوی کردی ہے‘ جبکہ درخواست گزار کا موقف ہے کہ تحریک انصاف نے امریکہ‘ڈنمارک‘ آسٹریلیا اور مشرق وسطیٰ سے فنڈز حاصل کئے‘ جو کہ غیر قانونی ہے ۔

بادی النظر میں تحریک انصاف نے فارن فنڈنگ کیس کو پُر اسرار بنا دیا ہے ۔ عدالت سے حکم امتناعی کا سلسلہ چار سال تک جاری رکھا اور بقول آصف علی زرداری عارف نقوی سے بھی فارن فنڈنگ حاصل کی گئی‘ جو ان دنوں منی لانڈرنگ کیس میں برطانیہ کی جیل میں ہیں۔

اب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے دس اکتوبر کے بعد روزانہ سماعت کر کے اس اہم معاملے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا فیصلہ کیا ہے ۔

یقینا فیصلہ میرٹ پر ہی آئے گا۔ اگر تحریک انصاف کی توقع کے بر عکس فیصلہ آیا توقیادت کے لیے ایک بہت بڑا امتحان ہوگا اور ان کے خلاف تادیبی کارروائی بھی ہوسکتی ہے اور الیکشن ایکٹ 2017ء کی دفعہ 212کے تحت پارٹی کو کالعدم قرار دینے کی شق موجود ہے۔

تحریک انصاف کو اس کیس کے بارے میں سنجیدگی سے اپنے دلائل دینے ہوں گے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.