کوہاٹ میں ڈاکٹروں کی ہڑتال تمام سرکاری ہسپتال بند

کوہاٹ۔

صوبے کے دیگر علاقوں کی طرح کوہاٹ میں بھی ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکس عملے نے مکمل ہڑتال کی اور تمام وارڈوں اور او پی ڈی کو تالے لگا دیئے۔

ضلعے کے دو بڑے ہسپتالوں کیساتھ ساتھ مضافات میں قائم مراکز صحت میں بھی مکمل ہڑتال رہی اور تمام دفاتر کو تالے بھی لگائے گئے۔

اس حوالے سے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر جاویداللہ نے بے باک آواز کو بتایا کہ حکومت آر ایچ اے اور ڈی ایچ اے ایکٹ کے ذریعے ہسپتالوں کی نجکاری کرنا چاہتی ہے اس سے قبل بھی وزیر صحت ہشام انعام اللہ خان کیساتھ ڈاکٹروں نے مذاکرات کئے تھے جن میں موصوف وزیر نے وعدہ کیا تھا کہ ڈاکٹروں کیساتھ مذاکرات کے بعد اس ایکٹ میں ترمیم کی جائے گی لیکن بدقسمتی سے صوبائی وزیر صحت اپنے وعدے سے مکر گئے ہیں اور بغیر کسی ترمیم کے صوبائی اسمبلی سے یہ ایکٹ پاس کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ڈاکٹر جاویداللہ نے کہا کہ اس ایکٹ سے ہسپتالوں کی نجکاری ہو جائے گی اور غریب مریض آسان علاج سے محروم ہو جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے میں ایسا لگ رہا ہے کہ صوبائی حکومت بے بس ہے اور تمام تر اختیارات ڈاکٹر نوشیروان برکی کے پاس ہے جوکہ وزیراعظم عمران خان کے قریبی رشتہ دار ہیں۔

پیرامیڈیکس ایسوسی ایشن کے صدر سید راشد بخاری نے بے باک آواز کو بتایا کہ اس بار ڈاکٹروں، پیرا میڈیکس عملہ او کلریکل عملہ ایک پیج پر ہے او مشترکہ جدوجہد کریں گے انہوں نے کہا کہ جمعے کے روز صوبے بھر کے ڈاکٹر اور پیرامیڈیکس اہلکار اسمبلی ہال کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کریں گے اور دھرنا دیں گے۔

یاد رہے کہ رواں سال کے اوائل میں صوبائی حکومت نے آر ایچ اے اور ڈی ایچ اے ایکٹ تیار کیا جس کا مقصد مبینہ طور پر ہسپتالوں کی حالت بہتر بنانا ہے۔ لیکن صحت کا عملہ اسے ہسپتالوں کی نجکاری قرار دے رہا ہے۔

اس سے قبل بھی اپریل میں ڈاکٹروں نے ہڑتال کی تھی اور بعد ازاں مذاکرات کے بعد صوبے کے ڈاکٹروں نے احتجاج ختم کر دیا تھا اور صوبائی وزیر صحت نے ڈاکٹروں کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ڈاکٹروں کی مرضی کے مطابق مذکورہ ایکٹ میں ترمیم کرکے اسے اسمبلی سے پاس کرایا جائے گا لیکن سرکاری ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ حکومت بغیر کسی ترمیم کے اس ایکٹ کو پاس کرکے نافذ کرنا چاہتی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.