کوہاٹ: فاٹا پبلک ہیلتھ دفتر کے حکام پر کرپشن کے سنگین الزامات

کوہاٹ

فاٹا پبلک ہیلتھ دفتر میں رشوت کا بازار گرم ہے اپنے من پسند ٹھیکیداروں کو ٹینڈر میں شامل کیا جاتا ہے جبکہ اکثر ٹھیکیداروں کو مختلف حیلے بہانوں سے ٹرخا کر فارم نہیں دیئے جاتے من پسند ٹھیکیداروں کے ساتھ پندرہ فیصد پر ڈیل کرکے ٹینڈر کھولنے سے دو گھنٹے پہلے فارم دیئے گئے جو کہ غیر قانونی عمل ہے۔

اس حوالے سے ضلع صدہ کرم کے ٹھیکیداروں نصرت حسین، منیر حسین، انجینئر شعبان علی، حاجی نور ہاشم، لائق حسین، صوبیدار عاشق حسین، دلدار حسین، مجاہد حسین اور پیر مراد نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ٹینڈر کھولنے سے ایک دن پہلے فارم دیئے جاتے ہیں ہم صدہ کرم سے کل فاٹا پبلک ہیلتھ آفس کوہاٹ دس منٹ دیر سے پہنچے تو ایکسین اور ہیڈ کلرک کاشف دفتر سے غائب تھے

جب ہم نے کلرک کاشف سے رابطہ کیا تو انہوں نے فون نہیں اٹھایا ان کا مزید کہنا تھا کہ ہیڈ کلرک کاشف نے رشوت کا بازار گرم کیا ہواہے اور انہوں نے اپنے من پسند ٹھیکیداروں کے ساتھ پندرہ فیصد پر ڈیل کی ہے جسکی وجہ سے انہوں نے ہمیں فارم دینے سے بچنے کیلئے دفتر سے جلدی چھٹی کرلی تھی،

جبکہ بعض ٹھیکیداروں کو ایک فون کال پر ٹینڈر فارم دیئے جبکہ بعض ٹھیکیداروں کو ٹینڈر کھولنے سے دو گھنٹے پہلے فارم دیئے اور ہمیں دو دن سے فارم نہیں دیئے جا رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دوبارہ ٹینڈر کرایا جائے ورنہ ہم اس کیخلاف ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے انہوں نے وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ کے پی کے محمو خان سے مطالبہ کیا کہ خدارا ہمارے حال پر رحم کرتے ہوئے ہمیں صدہ کرم پبلک ہیلتھ کے آفس کو عملہ دیا جائے اور وہاں کے تمام ٹینڈر وہیں پر کھولے جائیں ہمیں دیگر ضلعوں میں ذلیل نہ کیا جائے جبکہ فاٹا پبلک ہیلتھ کے کرپٹ عملے کے خلاف کاروائی کرکے کرپشن سے پاک پاکستان کو شرمندہ تعبیر کیا جائے۔

اس حوالے سے ابھی تک متعلقہ حکام کا مؤقف سامنے نہیں آیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.