ارکان صوبائی اسمبلی حکومت کیخلاف احتجاج کی تیاریوں میں لگ گئے

کوہاٹ:

خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے مبینہ طور پر تیل و گیس رائلٹی کی مد میں کوہاٹ ڈویژن کے تینوں اضلاع کے نو ارب روپے سے زائد فنڈز روکے ہوئے ہیں جس کے خلاف تینوں اضلاع سے منتخب اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان صوبائی اسمبلی اور جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی)عہدیداروں نے رائلٹی کی وصولی تک احتجاجاً انڈس ہائی وے بلاک کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس سلسلے میں اتوار کے روز حلقہ پی کے اکیاسی سے رکن صوبائی اسمبلی میجر ریٹائرڈ خانزادہ شاہ داد خان کے حجرے میں ایک اہم اجلاس ہوا جس میں کرک کے دونوں صوبائی حلقوں سے ارکان اسمبلی میاں نثار گل کاکا خیل اور ظفر اعظم، کوہاٹ سے سابق امیدوار قومی اسمبلی گوہر سیف اللہ خان بنگش سمیت کرک، کوہاٹ اور ہنگو سے جے یو آئی کے ضلعی عہدیدار بھی شریک ہوئے۔

اجلاس میں جے یو آئی کوہاٹ کے امیر مولانا عبدالرحیم کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی گئی جس میں مذکورہ تینوں ارکان صوبائی اسمبلی بھی بطور کمیٹی اراکین کام کریں گے۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میاں نثار گل کاکا خیل، خانزادہ شاہ داد خان اور ملک ظفر اعظم نے کہا کہ سال دوہزار تیرہ سے اب تک رائلٹی کی مد میں تینوں اضلاع کے صوبائی حکومت کے ذمے نو ارب روپے سے زائد واجب الادا ہیں کئی بار اسمبلی میں مطالبے اور احتجاج ریکارڈ کئے گئے لیکن صوبائی حکومت ان اضلاع کو اپنا حق نہیں دے رہی جس کے باعث تنیوں اضلاع میں ترقیاتی کام ٹھپ پڑے ہیں۔ لوگ پینے کے پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں، سڑکیں ویران پڑی ہیں، اور صحت و تعلیم کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ صرف جے یو آئی یا اپوزیشن جماعتوں کا مسٗلہ نہیں بلکہ یہ ان تمام شہریوں کی حق تلفی ہے جوکہ ان اضلاع کے رہائشی ہیں، خوا ان کا تعلق کسی بھی پارٹی سے کیوں نہ ہو اس لئے اگر ہم نے احتجاج کی کال دی تو اس میں تمام سیاسی پارٹیوں کے کارکن شریک ہوں گے جنہیں سنبھالنا حکومت کے لئے مشکل ہو جائے گا۔

کمیٹی کے سربراہ مولانا عبدالرحیم نے کہا کہ کمیٹی ایک بار پھر کوشش کرے گی کہ حکومت کیساتھ مذاکرات کرے لیکن اس کے باوجود بھی ان اضلاع کو اپنا حق نہ دیا گیا تو وہ لاچی ٹول پلازہ کے قریب انڈس ہائی وے کو ٹریفک کے لئے بلاک کردیں گے اور کوئی بھی آئل ٹینکر آئل فیلڈ میں داخل ہونے نہیں دیں گے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.