اپوزیشن کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں

ممتاز بنگش

اگر چہ جمیعت علمائے اسلام کے مرکزی امیر اور منجھے ہوئے سیاستدان مولانا فضل الرحمان موسم معتدل ہوتے ہی موجودہ حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کر چکے ہیں اور اس مقصد کے لئے انہوں نے بھرپور تیاری بھی جاری رکھی ہوئی ہے اس سلسلے میں وہ اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں بھی لے چکے ہیں لیکن موجودہ حالات پر نظر دوڑائی جائے تو اثرات اس طرح دکھائی دے رہے ہیں کہ مولانا کو لانگ مارچ کی ضرورت نہیں پڑے گی اور شاید وہ موجودہ حالات کے تناظر میں اپنی لانگ مارچ کی کال کو واپس لے لیں یا موخر کر لیں اور اگر مذکورہ دونوں فیصلے مولانا صاحب نے نہ کئے تو پھر شاید ان کے ذہن میں یہی بات ہو کہ اب انہیں عمران خان کی حکومت گرانے کے لئے اتنی محنت نہ کرنی پڑے جتنی محنت کا وہ سوچ رہے ہوں

اب وہ حالات کونسے ہیں جن کا حوالہ دیا جا رہا ہے تو سیاست اور ملکی حالات پر نظر رکھنے والے بعض سنجیدہ لوگوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی، نئے ٹیکسوں اور غریب آدمی پر حد سے زیادہ بوجھ ڈالنے سے عوام بغیر کسی سیاسی لیڈر کے سڑکوں پر آنے کے لئے پر تول رہی ہے، جس کا ایک چھوٹا سا مظاہرہ کوہاٹ میں بھی دیکھنے کو ملا۔

ایک طرف سی این جی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے خلاف سوزوکی ڈرائیورز تپتی گرمی میں سڑکوں پر آگئے تو دوسری جانب کوہاٹ کی تمام تاجر تنظیموں کے نمائندے اور دکاندار طبقہ بھی شٹر ڈاؤن اور احتجاجی مظاہروں پر مجبور ہوا ان مظاہروں میں اہم بات یہ تھی کہ اس میں کسی ایک سیاسی جماعت کے لوگ نہیں تھے بلکہ مظاہروں میں ایسے لوگ بھی دیکھنے کو ملے جو الیکشن سے قبل عمران خان کے گن گاتے نہیں تھکتے تھے لیکن مہنگائی اور ٹیکسوں کی چکی میں پسنے کے بعد وہی لوگ اپنے لیڈر کو کوستے نظر آئے۔

اسی قسم کے مظاہرے پشاور اور دیگر علاقوں میں دیکھنے کو مل رہے ہیں جس کا یہی مقصد لیا جا سکتا ہے کہ یا تو مہنگائی کی ستائی عوام اپنی بقا کے لئے سڑکوں پر آئے گی اور یا اپنے سیاسی لیڈروں کی محبت میں خاموشی کا زہر پی کر خاموشی سے شہر خاموشاں کوچ کر جائے۔

اب حالات یہاں تک کیسے پہنچے اس کی توجیح شاید حکمران جماعت اس انداز میں پیش کرے کہ ملک آئی ایم ایف کے قرضوں میں دبا ہوا ہے اگر عوام کو سہولت دینے کے لئے اشیائے خوردونوش پر سبسٹڈی دی جائے تو اس کے لئے مزید قرضے لینے پڑیں گے اور اس طرح قرضوں کے بوجھ تلے دب کر ملک دیوالیہ پن کا شکار ہو جائے اور پھر شاید یہ قرضے اس حد تک بڑھ جائیں کہ پاکستانی عوام ان قرضوں سے جان چھڑانے کا خواب بھی نہ دیکھ سکے اور یا پھر اس ملک کا قرضہ اتارنے کے لئے اپنے منہ کا نوالہ آدھا کرکے اور اپنے پیٹ پر پتھر باندھ کر اپنی آئندہ نسل کو حقیقی معنوں میں ایک آذاد اور خود مختار ملک دے دیں اور پھر تاریخ ان لوگوں کی قربانیوں کا ذکر اس انداز میں کرے جس طرح چین کے موزے تنگ، ترکی کے طیب اردگان اور ملیشیا کے مہاتیر محمد کا ذکر بڑے فخر سے کیا جا رہا ہے جنہوں نے بہترین حکمت عملی سے اپنے ملک کو تاریکی اور ابتری سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کیا اور آج ان کا نام مثال کے طور پر لیا جا رہا ہے۔

لیکن پاکستان عوام یہ بھی سوچتی ہوگی کہ ان کی ایسے نصیب کہاں کہ انہیں موزے تنگ، طیب اردگان اور مہاتیر محمد جیسے لیڈر ملیں کیونکہ ایک تو انہیں ہمیشہ ایسے ہی نعروں سے ہی دھوکہ دیا گیا اور دوسرا یہ کہ ہمارے اپنے اعمال بھی کچھ ایسے نہیں ہیں کہ ہمیں اپنے رب کی جانب سے ایک حقیقی ایماندار اور عوام کا غمخوار راہنما نصیب ہو۔

اب عوام اپنے لیڈر پر اعتماد شاید اس لئے بھی نہ کر پا رہی ہو کہ جو لوگ انہیں انصاف اور کرپشن سے پاک پاکستان دلانے کے دعوے کر رہے ہیں ان کے دامن پر بھی کسی نہ کسی طور کرپشن کے داغ دکھائی دے رہے ہیں اگر عمران خان براہ راست کرپشن میں ملوث نہیں بھی لیکن ان کے ارد گرد بیٹھے کئی ایسے لوگ ہیں جن کے کردار اور کمائی پر انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں لیکن عمران خان کی ان بارے خاموشی یا تو اپوزیشن کو بات کرنے اور الزامات کو تقویت دینے کا موقع دے رہی ہے اور یا یہ خاموشی عوام کی بدگمانیاں بڑھانے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔ عمران خان اگر بلا امتیاز کرپشن کے خاتمے اور انصاف کی فراہمی کے لیے اپنے پرائے کی پرواہ کئے بغیر قدم اٹھاتے تو شاید وہ لوگ بھی ان کے دست و بازو بن جاتے جو اس سے قبل ان کے اپنے نہیں تھے۔

آج اگر رانا ثنااللہ، نواز شریف اور آصف علی زرداری کیساتھ وہ لوگ بھی جیل میں ہوتے جو بی آر ٹی میں اربوں روپے کی کرپشن کے الزامات کی زد میں ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.