گھبرانا نہیں! سی این جی مزید مہنگی ہو گی

کوہاٹ

آئل اینڈ گیس ریگولرٹی اتھارٹی یعنی اوگرا نے خیبر پختونخوا میں سی این جی کی قیمتوں میں بائیس روپے فی کلو گرام اضافے کا اعلامیہ جاری کر دیا ہے جس کے بعد سی این جی کی قیمتیں سرکاری نرخ کے مطابق ۱۳۹ روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے لیکن کوہاٹ سمیت مختلف علاقوں میں سی این جی کی فی کلو مختلف قیمت وصول کی جارہی ہے

سی این جی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے عوام پر مہنگائی کا ایک اور بم گرادیا گیا ہے جس کے خلاف پیر کے روز سوزوکی ڈرائیوروں نے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا

مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر حکومت کے خلاف نعرے درج تھے مظاہرین حکومت سے سی این جی کی قیمتوں میں اضافہ واپس لینے کا مطالبہ کر رہے تھے

مظاہرین نے میڈیا کو بتایا کہ ان سے سی این جی پمپس پر مختلف ریٹ وصول کئے جارہے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں

انہوں نے بتایا کہ رواں برس سی این جی کی قیمتیں چوہتر روپے سے ایک سو پینتالیس روپے تک پہنچ چکی ہیں لیکن حکومت نے سوزوکی ڈرائیوروں اور دیگر پبلک ٹرانسپورٹ پر کئی سال پرانے نرخ نامے مسلط کئے ہوئے ہیں جس سے ٹرانسپورٹ سے وابستہ طبقہ اپنے بچوں کے لئے رزق حلال کمانے سے بھی محروم ہوتا جا رہا ہے

ایک ڈرائیور نے بتایا کہ پہلے وہ اپنے بچوں کے لئے روٹی کا ایک نوالہ کمانے کے قابل تھا اب تو عمران خان کے اقتدار میں آنے کے بعد ان کے منہ سے یہ نوالہ بھی چھینا جا رہا ہے جب وہ سواریوں سے زیادہ کرائے کا مطالبہ کرتے ہیں تو بات ہاتھا پائی تک جا پہنچتی ہے

اس حوالے سے جب سی این جی ایسوسی ایشن کوہاٹ کے ایک عہدیدار محمد آصف سے بات کی گئی تو انہوں نے بے باک آواز کو بتایا کہ اگر چہ اوگرا نے سی این جی کی قیمت میں بائیس روپے فی کلو اضافے کا اعلامیہ جاری کیا ہے لیکن دوسری جانب بجلی مہنگی کردی گئی ہے اور سی این جی سے وابستہ طبقے پر مختلف ٹیکس بھی لگا دئیے گئے ہیں تو ان حالات میں گیس کی قیمت میں صرف بائیس روپے فی کلو اضافہ نہیں ہوگا بلکہ مذکورہ بالا تمام تر اخراجات پورے کرنے کے لئے سی این جی مالکان خود قیمت کا تعین کریں گے

انہوں نے بتایا کہ سی این جی ایسوسی ایشن کی اہم میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ایک مہینے تک سی این جی کی قیمت ایک سو انتالیس روپے فی کلو مقرر ہوگی اور اگلے مہینے جب پٹرول کی قیمت بڑھ جائے تو پھر سی این جی کی قیمت بھی بڑھا دی جائے گی جس کا تعین بعد میں کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے انتخابات سے قبل مہنگائی پر قابو پانے، روپے کی قدر میں استحکام، کرپشن کے خاتمے اور عوام کو ریلیف دینے سمیت مختلف وعدے کئے تھے لیکن ابھی تک ان میں سے ایک بھی وعدہ پورا ہوتا دکھائی نہیں دیا جا رہا اور روپے کی قدر میں کمی اور مہنگائی میں اضافہ اس ملک کے بڑے مسائل بنتے جا رہے ہیں جن پر قابو پانے میں بظاہر حکومت بھی بے بس نظر آ رہی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.