کوہاٹ: خواتین کی ڈیجیٹل بااختیاری کے حوالے سے سیمینار

کوہاٹ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ویمن ڈیجیٹل ایمپاورمنٹ پراجیکٹ کے زیر اہتمام آگاہی سیمینار منعقد ہوا

سیمینار میں یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر تسلیم، فیکلٹی ممبرز، طلبا، سماجی کارکنوں اور صحافیوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی

پراجیکٹ کے اوئرنيس اينڈ انگیجمنٹ سربراہ عبدالرحمان نے بے باک آواز کو بتایا کہ آئی ایم سائنسز کے زیراہتمام جاری پراجیکٹ کے لئے ان کیساتھ جرمنی کی جی آئی زیڈ تنظیم اور خیبر پختونخوا حکومت کی سرپرستی اور تعاون حاصل ہے

انہوں نے کہا کہ پراجیکٹ کا مقصد خواتین کی ڈیجیٹل دنیا اور ٹیکنالوجی تک رسائی کو آسان بنانا ہے اور اس پراجیکٹ کے ذریعے ان کے مسائل کے حل کے لئے کوششیں کرنا ہے

جس کے ذریعے وہ باآسانی اپنے مسائل پر بحث کر سکتی ہیں اور اپنے لئے بہتر راہ تلاش کر سکتی ہیں

کوہاٹ یونیورسٹی میں پراجیکٹ کا سٹیلائٹ آفس ہے جس کے سربراہ شعبہ صحافت کے اسسٹنٹ پروفیسر اور سینئر صحافی پرویز خان ہونگے، موصوف نے بے باک آواز کو بتایا کہ اس پراجیکٹ کی ویب سائٹ کے ذریعے خواتین کی راہنمائی کی گئی ہے کہ وہ اپنے مسائل کے حل کے لئے کس سے اور کس طریقے سے رابطہ کر سکتی ہیں

انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کو اس ویب سائٹ پر اپنے مسائل پر بحث کرنے کا موقع بھی دیا گیا ہے جہاں نہ صرف وہ اپنے مسائل حل کرنے کے لئے کوششیں کر سکتی ہیں بلکہ وہ اس بحث کے ذریعے ان قوانین کی تبدیلی کا ذریعہ بھی بن سکتی ہیں جو قوانین وہ اپنے لئے معاون نہیں سمجھتیں

ڈبلیو ایس ایس سی کی میڈیا آفیسر اور خاتون صحافی عاصمہ علی نے اس موقع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس پراجیکٹ کا آغاز خواتین کے لئے بہت ہی معاون ثابت ہوگا تاہم اس سے بڑھ کر بھی خواتین کو ان کے حقوق سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے جو قوانین ان کی فلاح کے لئے بنائے گئے ہیں

انہوں نے کہا کہ اس ملک میں خواتین کی فلاح و بہبود اور ان کو اپنے حقوق بہم پہنچانے کے لئے قوانین تو بنائے گئے ہیں لیکن بدقسمتی سے ان قوانین کو عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکا

انہوں نےکہا کہ خواتین کے نام پر کروڑوں روپے فنڈز تو منظور ہو جاتے ہیں لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں اور اس معاشرے میں خواتین اسی طرح حقوق سے محروم نظر آتی ہیں

انہوں نے کہا کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ نصف آبادی کی نمائندگی کرنے کے لئے اسمبلیوں میں جانے والی خواتین بھی اپنے حقوق سے بے خبر ہیں

یہ خواتین ممبران اسمبلی کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ خواتین کے حقوق کے لئے کی جانے والی قانون سازی کو نافذ کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں

دوسری جانب کوہاٹ یونیورسٹی کے لائبریری انچارج اور محقق ڈاکٹر مراد علی نے اس پراجیکٹ کو سراہا اور کہا کہ اس سے خواتین کو اپنے مسائل پر بحث کرنے اور اپنے حقوق تک رسائی اور ڈیجیٹل دنیا میں آگے بڑھنے میں مدد ملے گی تاہم اس قسم کے سیمینار دیہی علاقوں، لڑکیوں کے سکولوں اور کالجوں میں منعقد کئے جانے سے اس کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگا کیونکہ یہ ہی وہ طبقہ ہے جو کہ حقیقی معنوں میں اپنے حقوق سے نہ صرف محروم ہے بلکہ ٹیکنالوجی کے استعمال سے بھی نا بلد ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.