ان حسرتوں سے کہہ دے!

تحریر: ایم سرور صدیقی

بچپن میں ہم کرنسی نوٹوں پر اپنا نام لکھ کر سوچتے رہتے تھے کہ ایک دن یہ نوٹ گھومتا گھماتا،پھرتا پھراتاپھر ہمارے پاس لوٹ آئے گا لیکن تادم ِ تحریر ایسا نہیں ہوا ایک بھی کرنسی نوٹ کے سفرکااختتام ہماری رسائی تک ممکن نہیں اس اعتبارسے کئی بار دل میں خیال آتاہے دنیا کی سب سے بے وفا چیز تو دولت ہے جس کیلئے لوگ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں۔ ایمان بیچ دیتے ہیں۔ضمیر بیچ دیتے ہیں اپنے پیاروں سے نظریں پھیرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ حتیٰ کہ جسم بیچ دیتے ہیں یہ کم بخت دولت انسانوں کا خون سفید کردیتی ہے۔انسان حیوان بن جاتے ہیں ایک دوسرے کو قتل کرنے سے بھی گریزنہیں کیا جاتا۔جانے کتنی بار سوچا یہ دولت کی محبت ہے کیسی۔۔لذت کیسی۔۔ کیسا جنوں۔کیسا عشق؟اتنی ناپائیدار چیزپہ مرنا کیونکر؟ ایک نوٹ جو آج آپ کے ہاتھوں میں ہے پھر زندگی بھر آپ کے پاس دوبارہ واپس نہیں آتا۔۔۔پھر بھی اس کی محبت میں جائز ناجائز،حلال حرام،اچھائی برائی کی تمیز کھو دینا کہاں کی انسانیت ہے۔۔اولاد اور مال کو فتنہ قراردیا گیاہے لوگ پھرنہیں سوچتے دراصل دل میں محبت گھرکرجائے توبندہ اسی کا ہوکررہ جاتاہے رشتوں کااحترام بھی جاتا رہتاہے۔پاکستان کی اشرافیہ جس میں سیاستدان، فوجی ڈکٹیٹر،بیوروکریسی،فیوڈل لارڈ اور کرپٹ عناصر شامل ہیں جن کے اربوں ڈالر غیرملکی بینکوں پڑے ہوئے ہیں یہ سب لوٹ مارکی کمائی ہے جو پاکستان میں ناجائز طریقے سے کماکر باہر رقم بھیج دی گئی۔بدقسمتی سے یہ لوگ ملکی وسائل پرقابض ہیں یہ لوگ نہ گورنمنٹ کو ٹیکس دیتے ہیں اور نہ ان سے کوئی ٹیکس لے سکتاہے قانون ان کی خواہش کا نام ہے اشرافیہ کو چھینک بھی آجائے تو یہ بیرون ممالک کے مہنگے مہنگے ہسپتالوں میں پاکستان کے قومی خزانے سے علاج کر اتے ہیں،دولت سے محبت ان کے رگ وپے میں بسی ہوئی ہے۔پاکستانی معاشرہ دولت سے محبت کرنے والوں کا معاشرہ ہے یہاں دولت کو حل المشکلات سمجھا جاتاہے برے سے برے دولتمندسے لوگ جلدی مرعوب ہو جاتے ہیں کوٹھی،کار،بینک بیلنس اور ظاہری لش پس کو ہی جب عزت اور ترقی کا معیارسمجھ لیا جائے تو اخلاقی اقدار کہاں تک پنپ سکتی ہیں ہر شخص امیر بننے کیلئے شارٹ کٹ ڈھونڈتا پھرتاہے یہی وجہ ہے کہ ہر کرکٹ میچ پر اربوں کا جواء لگایا جاتاہے۔۔ پرچی جواء ہر ماہ انعامی بانڈکی قرعہ اندازی پر الگ سے لگ رہاہے۔متعدد کمپنیاں عوام کی اسی نفسیات سے فائدہ اٹھاکر اپنی مصنوعات بیچ بیچ کر اربوں منافع کمارہی ہیں اور معیار اور قیمت کے معاملے پر کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں۔۔۔کوئی آپ سے پوچھے دولت کیلئے آپ کس حدتک جا سکتے ہیں۔دل پر ہاتھ رکھ کر سوچئے اس سوال کا جواب کیا دینا پسندکریں گے؟۔کئی زبان سے اقرارتو نہیں کریں گے لیکن حیف صد حیف بیشتر دل ہی دل میں یہ ضرور کہہ اٹھیں گے۔آخری حد تک یہ درست ہے کہ آج بلکہ ہمیشہ دولت ہی زیادہ ترکام ممکن ہیں لیکن اس کیلئے اخلاقی اقدارکی پامالی، حلال حرام کی تمیز کھو دینا یا اپنے ایک روپے کے فائدے کیلئے دوسروں کا1000کا نقصان کردینا کہاں کی انسانیت ہے؟۔۔دنیاکے ہرمذہب۔ہر پیغمبر اورہراس کے سچے پیروکارنے انسانوں سے محبت کا درس دیاہے دولت سے محبت کا نہیں یہ دنیا اور اس کی ہر چیز انسان کیلئے بنی ہے انسان ان کیلئے نہیں پھرہم نے کیوں مادیت کو اپنے آپ پر اس قدر حاوی کردیاہے کہ حقیقت چھپ گئی ہے۔ دنیا کی تمام دولت اکھٹی بھی کرلی جائے تب بھی کسی کو زندگی کے چند لمحے عطانہیں کئے جا سکتے۔ کہا جاتاہے پاکستان کرپٹ لوگوں کی جنت ہے یہاں بدعنوانی خوب پھل پھول رہی ہے کسی کو کوئی خوف،ندامت یا پریشانی نہیں ہے دراصل اس ملک میں احتساب کا سرے سے کوئی رواج ہی نہیں ہے بااثر شخصیات کے آگے قانون موم کی ناک ہے معاشرے میں مجموعی طورپر ہر کس و ناکس کیلئے متاثر ہونا فطری بات ہے شاید آپ کو یادہوگا ایک امریکی سینیٹر نے کہا تھا پاکستانی دولت کیلئے اپنی ماں بھی بیچ سکتے ہیں یہ ایک ایسا طمانچہ تھا جس کی گونج اب تک سنائی دے رہی ہے یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں آج تک کسی بھی حکومت نے غربت ختم کرنے کیلئے حقیقی اقدامات نہیں کئے اگر کسی نے ڈھیلے دھالے انداز میں ایسا کرنے کی کوشش بھی کی تو افسر شاہی یاارکان ِ اسمبلی نے ان کاوشوں پر پانی پھیردیا اوروہ خود مالا مال ہوگئے اور یوں وہ غربت ختم کرنے کی بجائے غریب ختم کرنے کی پالیسی پر گامزن رہے اوریوں حکومتی کوششیں بار آور نہ ہو سکیں اگرپاکستان کی اشرافیہ صرف اپنا سرمایہ پاکستان لے آئے تو اس سے ملکی معیشت کو نہ صرف استحکام ملے گا بلکہ روزگارکے اتنے مواقع میسر آسکیں گے کہ عام آدمی بھی دو وقت کی روٹی عزت سے کھا سکے گا۔ غریب تو حالات سے مجبورہیں یہاں تو امیر سے امیر اور بڑے سے بڑا افسر بھی بدعنوان،کرپٹ،راشی ہے حالات جس نہج پر آگئے ہیں سمجھ سے بالاہے کس لئے لوگ ا یمان بیچ رہے ہیں۔ضمیر بیچ رہے ہیں، جسم بیچ رہے ہیں، ایک دوسرے کو قتل کررہے ہیں۔۔واعظ،علماء کرام،صحافی،سماجی کارکن اور تعلیم و تدریس سے وابستہ افراد ایک مشن سمجھ کر ایک تحریک چلائیں،لوگوں کو تلقین کریں حرام اور حلال کا تصوراجاگر کریں اہمیت بتائیں اس کے بغیر دلوں سے دولت کی تڑپ ختم نہیں کی جا سکتی دولت سے محبت گھٹی میں پڑی ہوئی ہے دنیا میں ان لوگوں کا نام آج بھی زندہ ہے جنہوں نے دولت کو انسانیت کی فلاح و بہبودکیلئے وقف کردیا سرگنگارام،گلاب دیوی، حکیم سعید، مدرٹریسا اور عبدالستار ایدھی اس کی بہترین مثالیں ہیں اس کے علاوہ ان گنت شخصیات بے لوث خدمت کے جو چراغ روشن کررہی ہیں ان سے پورا ماحول جگمگ جگمگ روشن روشن ہے یہ ہمارے سامنے کی باتیں ہیں ہم جیسے چلتے پھرتے کردار ہیں اس کے باوجود ہم ہیں کہ پھربھی نہیں سوچتے۔۔شاید غوروفکرکی عادت نہیں۔پاکستان میں غربت،دہشت گردی،بے روزگاری،مہنگائی،جسم فروشی اور چوری،ڈکیتی،راہزنی دیگرمسائل کا بڑا سبب دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم ہے جس نے مسائل در مسائل کو جنم دے کر عام آدمی کی زندگیاں تلخ بنادی ہیں پاکستان نصف صدی سے جن چیلنجز سے نبرد آزما ہے ان کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ملکی وسائل چند خاندانوں تک محدودہوکر رہ گئے ہیں یہی لوگ اس وقت پاکستانیوں کی تقدیرکے مالک بنے ہوئے ہیں یہ خاندان جو چاہیں سیاہ و سفید کرنے پر قادرہیں بدقسمتی سے یہ لوگ سٹیٹ سے زیادہ طاقتور ہو چکے ہیں قانون ان کی مٹھی میں ہے، آئین ان کی خواہش کا نام ہے جس کو موم کی ناک بناکر جدھر چاہیں گھمادیں۔دولت کی غیر منصفانہ تقسیم نے عوام کیلئے غربت کو بدنصیبی بنا دیاہے جس سے چھٹکارہ کسی طور بھی ممکن نہیں۔بچپن میں ہم کرنسی نوٹوں پر اپنا نام لکھ کر سوچتے رہتے تھے کہ ایک دن یہ نوٹ گھومتا گھماتا،پھرتا پھراتا ہمارے پاس پھر لوٹ آئے گا لیکن تادم ِ تحریر ایسا نہیں ہوا ایک بھی کرنسی نوٹ کے سفرکااختتام ہماری رسائی تک ممکن نہیں دولت آج میرے پاس۔کل آپ کے پاس اورپرسوں کسی اور کے پاس چلی جاتی ہے یہی اس کی اصل حقیقت ہے
عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چاردن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
اس اعتبارسے کئی بار دل میں خیال آتاہے دنیا کی سب سے بے وفا چیز تو دولت ہے اور ایک بے وفا چیزکیلئے انسانیت کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دینا کوئی انسانیت نہیں۔ ہم سب سوچنے،سمجھنے اورعمل کرنے پر قادرہیں۔کا ش ہم سوچیں دولت سے محبت مسائل پیداکرتی ہے یہ دلوں سے احترام ختم کردیتی ہے دولت ایسی نامراد شے ہے محبت۔کدورت۔۔ اور نفرت میں تبدیل ہو جاتی ہے جب تک دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم کا نظام نہیں بدلتا ہم یونہی آہ و بکا کرتے رہیں گے اور رو رو کر دل پکار اٹھے گا
ان حسرتوں سے کہہ دو کہیں دور جا بسیں یہ
اتنی جگہ کہاں ہے دل ِ داغ دار میں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.