صحافی کو مشیر آئی ٹی ضیاءاللہ بنگش کی دھمکی، معاملہ کیا ہے؟

کوہاٹ

ضیاءاللہ بنگش صوبائی مشیر انفارمیشن ٹیکنالوجی کا قلمدان ملنے کے بعد پہلی بار کوہاٹ پریس کلب تشریف لائے اس موقع پر ان کے ہمراہ پاکستان تحریک انصاف کے کارکن بھی موجود تھے جوکہ عموماً موصوف کے ہمراہ دیکھنے کو ملتے ہیں۔

توقع کی جارہی تھی کہ ضیاءاللہ بنگش گذشتہ دنوں مشرق نیوز کے رپورٹر طاہر رشید بنگش کے ساتھ پیدا ہونے والی چپقلش ختم کرنے کے لئے تشریف لا رہے ہیں، لیکن پریس کلب کے ہال میں پریس کلب کے جنرل سیکرٹری نے بتایا کہ موصوف پریس کلب اور یونین آف جرنلسٹس کی نومنتخب کابیناؤں کو مبارک باد دینے آئے ہیں جس کی تصدیق ضیاءاللہ بنگش نے خود بھی کی۔

اگر چہ طاہر رشید اور ضیاءاللہ بنگش کے مابین پیدا ہونے والی چپقلش کو ختم کرنے کے لئے صدر پریس کلب کے دفتر میں دونوں فریقین کو گلے لگنے اور آئندہ کے لئے چپقلش ختم کرنے کا کہا گیا اور اسی طرح ہوا بھی لیکن باقاعدہ تقریب میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا، شاید پریس کلب کے عہدیداروں نے مناسب نہیں سمجھا کہ ایک صحافی کو مشیر کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کا ذکر سرعام کیا جائے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ضیاءاللہ بنگش نے کہا کہ ان کا صحافیوں کے ساتھ بہت پرانا تعلق ہے اور وہ خود پریس کلب کے رکن اور عہدیدار رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ ہر محاذ پر صحافیوں کی فلاح اور ان کے حقوق کے لئے لڑتا رہا ہوں تاہم صحافی بھی کوشش کریں کہ کسی بھی خبر یا رپورٹ کی تیاری سے قبل خبر کا ہر پہلو سے جائزہ لے لیا کریں اس طرح کرنے سے خبر میں پختگی آئے گی۔

مشیر اور صحافی کے مابین تلخی کی وجہ

پشتو زبان کے چینل مشرق نیوز کے صحافی طاہر رشید نے گذشتہ ہفتے ایک خبر نشر کی تھی جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ باچا خان لائبریری کے ایک گوشے میں قائم آئی ٹی پارک ویران پڑا ہے اور اس سے ابھی تک نوجوان وہ فائدہ نہ اٹھا پائے جس کا صوبائی حکومت اور موجودہ مشیر انفارمیشن ٹیکنالوجی ضیاءاللہ بنگش کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا تھا۔

خبر میں ایک دستاویز کی کاپی بھی دکھائی گئی ہے جس کے مطابق ضیاءاللہ بنگش، ان کا سیکرٹری اعجاز خان اور ایم پی اے کا ایک رشتہ دار باقاعدہ چھ ماہ تک آئی ٹی پارک سے تنخواہ بھی وصول کرتے رہے ہیں جس کے خلاف اس وقت کے ڈپٹی کمشنر کامران خان نے ایکشن بھی لیا تاہم معاملہ ڈُپٹی کمشنر کے تبادلے پر منتج ہو گیا۔

طاہر رشید کا کہنا ہے کہ خبر نشر ہونے کے بعد انہیں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مشیر ضیاءاللہ بنگش کی جانب سے دھمکی آمیز فون کالز اور وٹس ایپ پیغامات موصول ہوئے ہیں جن کے ثبوت ان کے پاس موجود ہیں۔

صحافی نے اس حوالے سے ڈی پی او منصور امان کو درخواست بھی دی ہے جس میں ان سے تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ڈی پی او کے مطابق درخواست تھانہ کینٹ کو بھیج دی گئی ہے اور اس پر ہر ممکن قانونی کارروائی کی جائے گی۔

صحافی کو دھمکی ملنے کے بعد صحافیوں کی آذادی کے لئے کام کرنے والی تنظیم فریڈم نیٹ ورک نے بھی اپنی ویب سائٹ اور ٹویٹر پر خبر جاری کر دی ہے۔

ضیاءاللہ بنگش کامؤقف

جب اس حوالے سے ضیاءاللہ بنگش سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کو چاہئے کہ وہ مکمل جانچ پڑتال کے بعد خبر شائع کریں تاہم انہوں نے تنخواہ لینے کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.