ایرانی حملے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا قوم سے خطاب، اہم اعلان

اسلام آباد:

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ توانائی کے شعبے میں خودکفیل ہو گیا ہے اور اب اسے مشرق وسطیٰ کے تیل کی ضرورت نہیں رہی، جنرل قاسم سلیمانی دہشت گردی کی سرگرمیوں میں مصروف تھا اور لبنان، شام اور عراق  میں دہشت گردوں کی تربیت کا فریضہ سر انجام دے رہا تھا۔

امریکی صدر عراق میں امریکی بیس پر ایرانی میزائل حملے کے بعد کی صورت حال پر قوم سے خطاب کر رہے تھے۔

اب سے کچھ دیر قبل اپنے خطاب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جنرل سلیمانی عراق اور پڑوسی ممالک میں دہشت گردانہ حملوں اور کارروائیوں میں ملوث تھا انہوں نے حزب اللہ اور القدس فورس جیسی مسلح تنظیموں کو تربیت دی اور ساتھ ساتھ وہ امریکیوں سمیت مختلف لوگوں کو قتل کرنے اور بم دھماکوں میں بھی ملوث تھا اس لئے امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑتے ہوئے سلیمانی کو نشانہ بنایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ بھی امن کی تباہی کا سبب بنے امریکہ نے انہیں ٹارگٹ کیا اور اس سے قبل داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کو بھی عراق میں نشانہ بنایا اور ہم سمجھتے ہیں کہ داعش ایران کے لئے بڑا خطرہ ہے اور البغدادی کو مارنے کا فائدہ ایران کو بھی پہنچا۔

جنرل قاسم سلیمانی کون تھے؟

قاسم سلیمانی ایک دہشت گرد تھے، ٹرمپ

بی بی سی کے مطابق 62 سالہ قاسم سلیمانی کو بغداد کے ہوائی اڈے پر ان کی کار میں ایک فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ ان کے ہمراہ کار میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کے عراقی کمانڈر بھی موجود تھے۔

پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے قاسم سلیمانی کی ہلاکت کی تصدیق کر دی گئی ہے جبکہ امریکی محکمۂ دفاع نے کہا ہے کہ انھیں صدارتی حکم پر نشانہ بنایا گیا۔

جنرل سلیمانی کا ایرانی حکومت میں ایک کلیدی کردار تھا۔ ان کی قدس فورس صرف رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو جوابدہ ہے اور انھیں ملک میں ایک ہیرو تصور کیا جاتا تھا۔

آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنے ردعمل میں قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر تین دن کے سوگ کا بھی اعلان کیا ہے۔

ادھر عراق کا کہنا ہے کہ امریکی کارروائی اس کی ’سالمیت کی صریح خلاف ورزی اور ملک کے وقار پر کھلا حملہ ہے۔‘

ایران نے جنرل سلیمانی کی جگہ بریگیڈیئر جنرل اسماعیل قانی کو قدس فورس کا نیا سربراہ تعینات کیا ہے۔

جنرل قاسم سلیمانی کی امریکی حملے میں ہلاکت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بغداد میں چند روز قبل ایران نواز گروہوں کی جانب سے امریکی سفارت خانے پر دھاوا بولا گیا تھا۔

جنرل سلیمانی کی امریکی حملے میں ہلاکت کے بعد تیل کی عالمی قیمتوں میں چار فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے اور مبصرین کے خیال میں ان کی موت پر ایران کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے جس سے خطے کی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا۔

بغداد کے ہوائی اڈے پر حملہ

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنرل قاسم سلیمانی اور ایران نواز ملیشیا کے ارکان دو گاڑیوں میں بغداد کے ہوائے اڈے سے نکل رہے تھے جب ان کو امریکی ڈرون نے نشانہ بنایا۔

اطلاعات کے مطابق جنرل سلیمانی لبنان یا شام سے بغداد پہنچے تھے۔ امریکی ڈرون نے گاڑیوں پر کئی میزائل برسائے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ اس حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.